فلسطین اور باقی 57 مسلم ممالک میں فرق
آج اُمت اسلامیہ پر جو حالات ہیں، ان میں کسی اور موضوع پر لکھنا تو دور سوچنے کا بھی دل نہیں چاہتا۔ ان حالات کی ایک وجہ آپ ﷺ نے یہ بتائی کہ ایک وقت ایسا آیئگا کہ کفار مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو ایسے بلایئنگے جیسے دسترخوان پر کھانے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ کیونکہ بات نبیﷺ کی کہی ہوئی تھی تو صحابہ ایمان تو لے آئے مگر پھر بھی سوال کر لیاکہ یا رسول اللہﷺ کیا اس وقت ہماری تعداد بہت تھوڑی ہوگی؟ اسلیے کیونکہ ابھی تو ہم صرف 313 تھے اور مقابلے میں ایسا منطم اور سرما دشمن تھالیکن پھر بھی ہار گیا، کیا اس وقت ہم 313 بھی نہیں ہونگے؟ پیارے نبی ﷺ سے فرمایا، نہ نہ! تعداد تو تمھاری بہت ہوگی مگر حیثیت اتنی کہ جیسے سیلاب میں اوپر آنے والے تنکے۔ جیسے تنکے سیلاب کے بہاو میں آکر چلتے جلے جاتے ہیں ویسے ہی تم بھی بہتے چلے جاوگے۔ جیسے ان کا وزن نہیں ہوتا، ان کا ذہن نہیں ہوتا، ویسے ہی تمھارا بھی نہیں ہوگا۔ (مفہوم)
اب فلسطین اور دوسرے مسلم ممالک کو ہی دیکھ لیجئے۔ بچپن سے یہ ہی یقین تھاکہ فلسطین پر اسریئل نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ لیکن اب شدید احساس ہوتا ہے کہ صرف فلسطین ہی آزاد ہے باقی 57 ممالک مقبوضہ ہیں۔ اس میں حیرانگی بھی کوئی نہیں، کیونہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ کہ نبیﷺ نے بتایا تھا کہ تمھارے دشمن کے دلوں میں تمھارا روب نہیں رہیگا اور دنیا کی محبت تم پر غالب آجائیگی۔ تم مرنے سے ڈروگے، موت سے نفرت کرو گے۔ تم بزدل بن جاوگے اور آخر میں کیونکہ تم دنیا کی محبت میں ڈوبے ہوگے تو تم کو غلام بنانا بھی آسان ہوگا، تم کو جہاد کے فرض سے دور کرنا ممکن ہوجائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ تمام 57 ملک جو کہ مسلم ممالک ہیں موت سے ڈرتے ہیں، غلامی میں مبتلا ہیں اور بس ایک ملک ہے جو اللہ سے ملنے کے شوق میں جہاد میں مصروف ہے۔
یہاں خود کو اور قاریئن کو یاد دلاتا چلوں کہ جہاد بھی ایک فرض ہے۔ جیسے نماز فرض ہے، روزہ فرض ہے ویسے ہی جہاد بھی فرض ہے۔ جب مسلمانوں کی زمین پر قبضہ ہوجاتا ہے تو جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ وہاں کے مسلمان کم پڑیں تو دوسرے مسلمانوں پر بھی فرض ہوجاتا ہے اور وہ بھی کافی بھی نہ ہوں تو جہاں کے تمام مسلمانوں پر فرض ہوجاتا ہے۔ لیکن آج ایک بھی قیادت اس قابل نہیں کہ جہاد کرے۔ نتیجہ یہ کے کفر اکھٹا ہے اور مسلمان بے سہارا ۔
ہمارا دین کوئی مسجد تک محدود نہیں۔ ہمارا دین تو دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے۔ چاہے یہ بات کافروں کو بری لگے یہ نہ ممکن، لیکن سچ یہ ہی ہے کہ اسلام آیا ہی دنیا میں غالب ہونے کے لیے ہے۔ لیکن اس غلامی کے تناظر اور ایمان سے دوری نے آج ہم مسلمانوں کو اس یقین سے دور کردیا ہے۔ شہادت کا شوق کو ہی ماردیا ہے۔ شہادت کی دعا سے دور کردیا ہے۔ ہمارے نبیﷺ تو اللہ سے مانگتے تھے شہادت۔ کہتے تھے کہ دل چاہتا ہے کے شہید ہوجاوں، پھراٹھایا جاوں اور پھر شہید ہوجاوں(مفہوم)۔ صحابہ بھی مانگتے تھے شہادت کو۔ روتے تھی اللہ کے آگے کہ انھیں اللہ کے راستے میں شہادت مل جائے۔ کیوں؟ کیونکہ ان کو یقین تھا کے تعداد ہو یا نہ ہو، جنگ کا سامان ہو یہ نا ہو اللہ کی مدد اور نصرت ضرور ہوگی۔
آج فلسطین سے آنے والی ویڈیوز دیکھیں۔ اللے سے ملنے کا شوق، موت سے محبت، دنیا اور مال سے نفرت صاف نظر آیئگی۔ نہ صرف مردوں میں بلکہ بچوں اور عورتوں میں بھی صاف صاف نظر آیئگا کہ کتنا اشتیاق ہے ان کو اللہ کے پاس جانے کا، اُس سے ملنے کا، اُس کو بتانے کا کہ کیا کیا ظلم کفار نے ڈھائے ہوئے ہیں دنیا میں اُن پر۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ہیں جن کی رگوں میں صحابا کا خون دوڑ رہا ہے۔ یہ ہی ہیں جو حق پر ہیں۔ یہ ہیں جن کی اللہ مدد فرمائے گا۔
اللہ ان کی مدد فرمایئں۔ ان کی آخرت تو اچھی ہوگی، اللہ ان کے لیے یہ دنیا بھی آسان فرمایئں۔ آمین
جزاک اللہ
سید وقار حسین
Comments
Post a Comment