غزہ والے / Gaza's people

فلسطین اور اسرائیل کی  جنگ باقی دوسری بڑی جنگوں سے منفرد ہے۔ ہم اسرائیل اور فلسطین کے بیچ میں ہونے والی  مار دھاڑ کو چین اور ویتنام، ایران یہ افغانستان کی جنگ سے ملا نہیں سکتے۔ فلسطین کے لیے یہ جنگ سانحاتی جنگ بن گئی ہے۔ سانحہ بھی ایسا جو ایک یا دو سال سے نہیں بلکہ 1947 سے چلا آرہا ہے۔ ظلم اس قدر ہو چکا ہے کہ فلسطین کی پوری کی پوری قوم ایک سطح پر آچکی ہے۔ بچہ ہو یا بڑا، دادا ہو یا پوتا، سب کے جذبات ایک ہیں، سب کے راستے ایک ہیں، سب کی منزل ایک ہے۔ یہ کوئی عام بات نہیں۔ اس پورے سانحہ نے مکمل فلسطین کو ایک قوم بنا دیا ہے۔ ایک ایسی قوم جو پوری یکسوئی کے ساتھ قربان ہونے کے لئے تیار تو ہے مگر ظلم کے خلاف ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لیے راضی نہیں۔ اس سانحہ کی بدولت آج فلسطینی قوم آزادی کے تصور کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔

میرے ایک استاد کا دعویٰ ہے کہ شاعروں نے شاعری کے ذریعے تاریخ لکھنے والوں سے زیادہ درست طریقے سے تاریخ لکھی ہے ۔ پچھلے دنوں محمود درویش (فلسطین کے شاعر) کی نظم، شناختی کارڈ(Identity Card)  پڑھنے کا موقع ملا۔ اب میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے سرپرست کا دعویٰ درست تھا۔ چلیں اس نظم کو ایک دفعہ دیکھ لیتے ہیں تاکہ ہم سب ایک سطح پر آجایئں اور غزہ میں ہونے والی قیامات کو محسوس کرسکیں۔ نظم کچھ ایسی ہے:

Write down
I am an Arab. 
My ID card number is 50,000. 
My children: eight 
And the ninth is coming after the summer. 
Are you angry? 

--

Write down
I am an Arab.
I work with my toiling comrades in a quarry.
My children are eight,
And out of the rocks
I draw their bread,
Clothing and writing paper.
I do not beg for charity at your door
Nor do I grovel
At your doorstep tiles.
Does that anger you?

--

Write down
I am an Arab,
A name without a title,
Patient in a country where everything
Lives on flared-up anger.
My roots…
Took firm hold before the birth of time,
Before the beginning of the ages,
Before the cypress and olives,
Before the growth of pastures.
My father…of the people of the plow,
Not of noble masters.
My grandfather, a peasant
Of no prominent lineage,
Taught me pride of self before reading of books.
My house is a watchman’s hut
Of sticks and reed.
Does my status satisfy you?
I am a name without a title
 --
Write down
I am an Arab.
Hair coal-black,
Eyes brown,
My distinguishing feature:
On my head a koufiyah topped by the igal,
And my palms, rough as stone,
Scratch anyone who touches them.
My address:
An unarmed village—forgotten—
Whose streets are nameless,
And all its men are in the field and quarry.
Are you angry?
 -- 
Write down:
I am an Arab
Robbed of my ancestors’ vineyards
And of the land cultivated
By me and all my children.
Nothing is left for us and my grandchildren
Except these rocks…
Will your government take them too, as reported?
Therefore,
Write at the top of page one:
I do not hate people,
I do not assault anyone,
But…if I get hungry,
I eat the flesh of my usurper.
Beware…beware…of my hunger,
And of my anger.

یہ نظم محمود درویشی نے سنہ 1964 میں لکھی جب اُن کی عمر تقریباََ 23 برس کی ہوگی۔ آپ اس نظم کو  پڑھیں اور غور کریں کہ 1964 اور 2023 کے حالات میں زیادہ فرق نہیں۔ پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظم پچھلے 2/3 دنوں میں لکھی گئی ہے۔ مگر ایسا نہیں۔ اس نظم کے آخری حصے میں شاعر، پہلے  ظالموں کو کہتا ہے کہ تم نےمیرے باپ دادا کے باغات چوری کرلیئے۔ وہ زمین کھاگئے جس کو میں نے اور میری اولاد نے کاشت کیا تھا۔ اب ہمارے لئے اور آنے والی نسل کے لئے چند چٹانوں کے علاوہ کچھ نہیں رہ گیا، کیا تم یہ بھی لے لو گے؟ پھرشاعر، ظالم کو اپنے صبر کا پیمانہ بتاتا ہے کہ میں لوگوں سے نفرت نہیں کرتا، نہ کسی پر حملہ کرتا ہوں لیکن اگر مجھے بھوک لگی، تو میں اپنے غاصب کا گوشت کھانے سے پیچھے نہیں ہٹونگا۔ میری بھوک اور میرے غصے سے خبردار رہو، ہوشیار رہو۔ ہائے!  آج دیکھیں ہم فلسطین کا حال، صرف چٹانیں اور پتھر ہی ہیں۔  مگر حوصلہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاعر جس نسل اور جس بھوک کا ذکر کررہا تھا وہ وقت آگیا ہے۔ فلسطین کی آج کی نسل پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ اُن کو صرف آزادی چاہیے۔ حقیقی آزادی جس میں دوبارہ غلامی منظور نہیں ہوتی۔ 

میرے حساب سے یہ جنگ ظلم و ستم کی جنگ ہے نہ کے حق و باطل کی۔ حق و باطل کی جنگ میں امکان ہے کہ معاہدہ ہوجائے، مگر ظلم و ستم کی جنگ میں مظلوم پر شرط نہیں کے وہ ظالم کی بات مانے اور معاہدہ کر کے پیچھے ہٹ جائے۔ نا ہی مظلوم پر لازم ہے کے کمزور لوگوں کی باتوں میں آ کر اپنے پر ہونے والے ظلم پر پردہ ڈال دے۔ مظلوم کو پورا حق ہے کہ وہ ظالم کو اس کے ظلم کے ساتھ نست و نابت کردے۔ آج اسی حق سے اہلِ غزہ سڑکوں پر کفن باندے کھڑے ہیں۔

مجھے تو حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے کہ اتنا سب ہونے کے بعد بھی دنیا کے دوسرے ممالک آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ اب نہ کوئی امن کمیٹی ہے، نہ انسانی آزادی کے گانے۔ سب کو جیسے کوئی سانپ سونگھ گیا ہے۔غیر مسلم تو غیر مسلم، ایسے ملک جہاں مسلمان حکمران ہیں، مال بھی ہے، طاقت بھی ہے، پھر بھی خاموش۔ کیوں؟ طاقت! مغربی تہذیب کے حساب سے جنگ میں جس فریق کی طاقت یعنی manpower اور arms اور high-tech equipments/defense وغیرہ ہونگی وہ ہی جنگ جیتے گا۔ اگر طاقت کے اس معنی کو مان لیا جائے تو اسرائیل ہی کو فتح نصیب ہوگی۔ مگر ایک تہذیب ایسی ہے جہاں طاقت کے معنی ہیں اردہ، نیت، حق، ایمان، تقوی وغیرہ۔ اس تہذیب کے حساب سے دنیاوی طاقت جتنی ہو، فتح ایمان والے کی ہوتی ہے۔ جو لوگ بھی خاموش ہیں اس پورے معاملے میں یہ تو اُن کے پاس دل نہیں یہ پھر وہ طاقت کو مغربی عینک سے دیکھتے ہوئے خاموش ہیں۔

 اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا فلسطینیوں کو اسرائیل کا دنیاوی طاقت میں زیادہ ہونا معلوم نہیں؟ سب کو معلوم ہے، مگر پھر بھی پوری قوم ایمانی طاقت کے ساتھ کھڑی ہے، یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اُن کا یقین اللہ کی مدد پر ویسا ہی ہے جیسے بدر کے وقت 313 صحابہ کو تھا۔ افسوس یہ اس بات کی بھی نشانی ہے کہ ہم باقی مسلمانوں نے یا تو اصل طاقت کو جانا ہی نہیں یہ شاہد ہر چیز کی طرح ادھا ادھورا جان کر بیچ میں کہیں چھوڑ دیا۔ یا پھر ہم بلا کے منافق ہوگئے ہیں کہ سب جانتے ہوئے بھی ہم نے  طاقت کو ظلم کے مترادف سمجھ کر اپنی کمزوری کو مظلومیت کے پیچھے کر کے صبر کرلیا ہے۔ اہلِ فلسطین نے ایسا صبر نہیں کیا۔ اُنھوں نے اپنی کمزوری کو مظلومیت کے پیچھے نہیں چھپایا۔ اُنھوں نے اپنی مظلومیت کو اپنا کر اپنے اندر ایک غصہ پیدا کیا اور تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم کا غصہ پیغامِ شکست ہوتا ہے۔ مظلوم کی طاقت اُن کے دل اور حوسلوں میں ہوتی ہے جو کہ کسی بھی قیمتی ہتھیار سے بے گناہ زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں ایک اور  بات واضح کردوں کہ میں بار بار فلسطین قوم کا ذکر کر رہا ہوں، ایسی قوم جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہیں اور دونوں ہی اس ظلم کے خلاف اپنی جانیں قربان کر بھی رہے ہیں اور آگے بھی مرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ دنیا میں  واحد قوم ہوے جو قوم ہونے کی اصل مثال ہے۔

اس پوری جنگ میں اہلِ غزہ کا نقصان بہت ہے مگر اسرائیل سے زیادہ نہیں۔ مجھے امید ہے کے جیت اہلِ غزہ کی ہوگی اور اگر جیتے نہیں تو میرے ان شیروں کا سر ہمیشہ اونچا رہے گا۔ ان کا شجرا آباد اتنا رہے گا کے تا قیامت آنے والا ہر فرد ان کو اچھے اور سنہرے لفظوں میں یاد کرے گا۔ ان کی دور تلک کی نسلیں  فخر سے یاد کی کی جایئنگی۔ہم بھی اگر ان غیرت مندوں کی طرح میدان میں آجایئں تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ دنیا میں ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایسا نظام جہاں لوگ ایمانی عینک سے ہر چیز کو دیکھینگے۔ یہ نظام ویسے بھی آنا ہے جب مہدیؑ اور عیسیؑ آیئگے مگر ہم ابھی ساتھ ہولیے تو اُس وقت بھی ساتھ ہولینگے۔  دوسری طرف اگر اسرائیل جیت گیا تو ظالم اور فرعون ہی کہلائے گا۔ مگر اس میں ہم جیسے خاموش تماشایئوں کا حال بھی کچھ خوب نہیں ہوگا۔ ہم شاہد ایک جھوٹے خدا کی غلامی سے نکل کر دوسرے جعالی خدا کی طرف لپک جاینگے۔

اللہ ہم سب کو ایمانی عینک دے تاکہ ہم حقیر کو حقیر سمجھیں اور اعلی کو اعلی۔ اللہ پھر ہم سب کو ہمت دیں کہ ہم ظلم کو ظلم سمجھیں طاقت نہیں اور مظلومیت کو مضلومیت سمجھیں کمزوری نہیں۔ انشاءاللہ اگر ایسا ہوگیا تو پوری مسلم قوم ایک ہو کر اہلِ غزہ پر ہونے والے ظلم کے خلاف کھڑی ہوجائے گی۔

جزاک اللہ۔



Comments