ٹیکنالوجی والا خدا
آج ٹیکنالوجی ہمارے ساتھ ہر جگہ موجود ہے۔ کوئی سا بھی شعبہ لے لیں، اس کی مداخلت لازمی ہے۔ صبح اُٹھنے سے لے کر رات سونے تک، آج کا انسان ٹیکنالوجی کے ارد گرد رہتا ہے۔ آفس ہو، اسکول ہو، گھر ہو، مسجد ہو، اکیلا ہو، کسی کے ساتھ ہو، یہ ٹیکنالوجی اب انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ہر وقت کا اسکرین ٹائم، آلات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے تو انسان سے انسان کا وقت چھین لیا ہے۔
کہاں ٹیکنالوجی کو انسانیت کی آسانی اور رابطے کے لئے متعارف کروایا تھا، اور کہاں اب خود انسان اس کا غلام بن کر رہ گیا ہے۔ غلام بھی ایسا کے اس کے بغیر نہ قضاءِ حاجت مکمل، نہ کھانا ممکن۔ اصولاََ جیسا تعلق خدا کے ساتھ ہونا چاہیئے تھا ویسا اس ٹیکنالوجی کے ساتھ بن گیا ہے۔
اب سمارٹ فون کو ہی لے لیں۔ یہ ٹیکنالوجی کی ایجادات میں سے سب سے بہترین ایجاد ہے، لیکن پھر بھی ٹیکنالوجی کے ایک بڑے فتنے کا بہت چھوٹا سا مظاہرہ ہے۔ سمارٹ فون پر ہمارا بھروسہ اور انحصار اب تک کی جہالت کا سب سے امتیازی کارنامہ ہے۔ اس سے پہلے کسی بھی ایجاد نے انسان کو اتنا بے بس نہیں کیا تھا کہ وہ خود سے اور اپنے بنانے والے سے دور ہوجائے۔ بے بسی بھی ایسی کے آج کا انسان اپنے دن کا ایک لمحہ بھی اس ایجاد کے بغیر نہیں گزار سکتا۔ اگر غلطی سے یہ بند ہوجائے تو ایک دیوانے جیسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پیاسا کوا کنواں ڈھونڈتا ہے ویسےہی انسان سمارٹ فون کا چارچر دھونڈتا ہے۔
یہ اسمارٹ فون خصوصی طور پر دکھاتا ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی میں کس طرح مداخلت کرتی ہے، چاہے ہماری مرزی ہو یہ نا ہو۔ مثلاََ آپ کا موبائل لاک ہو یہ بند ہو، آپ اپنے بھائی سے باتیں کریں کسی بھی موضوع پر جیسے کے گھڑی خریدنی ہے یا عمرہ پر جانا ہے یا گاڑی خریدنی ہے وغیرہ، جب بھی آپ کا موبائل آن ہوگا آپ کو اُن تمام موضوعات پر اشتہارات نظر آنا شروع ہوجائنگے۔ آواز کی شناخت اور ڈیٹا ٹریکنگ جیسی خصوصیات کے ساتھ، یہ سمارٹ فون جیسے آلات ہمارے اعمال اور بات چیت کا باقاعدہ نگرانی کرتے رہتے ہیں۔
لیکن یہ صرف اسمارٹ فون نہیں ہیں جو ہم پر قابو رکھتے ہیں۔ پورے ڈیجیٹل دنیا کا نظام بھی اسی طرح ہم پر قابو رکھتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، سرچ انجنز، اور ای-کامرس ویب سائٹس، سب کچھ ایک ایسے نظام میں کام کرتے ہیں جو ہماری توجہ کو موجودہ کرنے اور اس پر فائدہ اٹھانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ الگورتھمز کونٹینٹ، ہمارے اعمال اور مواد کی فہرست کو متعین کرتے ہیں، ہم کس کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، اور ہم کونسے مصنوعات استعمال کرتے ہیں، سب کچھ۔ یہ ایک خوراک کی فراہمی اور مینیپولیشن کا دائرہ ہوتا ہے جسے بنانے والے میڈیا کمپنیوں کو دوبارہ ہم پر براہ راست اثر ڈالنے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی مضبوط اثرات کی تنوع کا جائزہ لینے میں تنقید کرنا ضروری ہے۔ جہاں یہ ہمیں رابطے اور کارکردگی کا وعدہ دیتی ہے،دوسری طرف یہ ہمارے اندر انحصار اور انکشاف بھی بھرتی ہے۔ ہماری اسکرینوں اور آلات سے باقاعدہ وابستگی، ہماری ذہنی اور جذباتی صحت کے لیے گہرے اثرات رکھتی ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ جن ذہنی بیماریوں کا وجود اب ہے کیا وہ ٹیکنالوجی سے پہلے بھی تھیں؟ چند بڑی بیماریاں تو میں لکھ دیتا ہوں جہ ٹیکنالوجی کی دین ہے، اکیلے پن، تشویش، اور لت۔ انسان جب سے دنیا بنی ہے تب سے ابھی تک سب سے اکیلا اس ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد ہوا ہے۔ اسی طرح تشویش اور لت جیسی ذہنی بیماریاں 200 سال پہلے نہ تھیں، کیونکہ 200 سال پہلے ٹیکنالوجی بھی اتنی آباد نہیں تھی۔
اس کے علاوہ، ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کے اندر قدرت کی مضبوطی نے احتساب پر اور شفافیت پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔ ان صنعتوں میں چلنے والے کارخانے ہماری زندگی کو براہ راست اثرانداز کرتے ہیں۔ ان کو نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ کوئی روکنے والا۔ مثلاََ آپ کو یاد ہوگا کہ ایک زمانے میں پاکسان کے اندر تمام کی تمام ٹیلی کمیونیکیشن فرمز اپنے صارفین کو پوری رات مفت بات کرنے کی اجازت دیتی تھیں۔ صرف اس ایک آفر نے کتنا فساد مچایا اس کا اندازہ اللہ کرے کے ہم سب کو ہوجائے۔ ایک پوری نسل صرف اس آفر میں برباد ہوئی ہے۔ اور یہ تو وہ مثال ہے جو صارف اپنی مرزی سے خریدتا ہے۔ ایسی بھی کمپنیاں ہیں اس نظام میں جو آپ کی خردید کے تمام پیٹرن پڑھتیں ہیں اور آپ کے سامنے کچھ ایسا نظام چلاتیں ہیں کہ آپ صرف اُن سے ہی خریدیں۔
حل صرف یہ ہی ہے کہ ہم اپنے ٹیکنالوجی کے ساتھ رشتے کی دوبارہ جائزہ لیں اور اپنی زندگیوں پر اختیار دوبارہ حاصل کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم الگورتھمز اور کارپوریٹ مفادات کی حکمت عملی جانیں اور ان سے ہوشیار رہیں۔ ہمارے ڈیجیٹل تعاملات میں شعور اور ذہانت پیدا کر کے، ہم تکنولوجی کے منفی اثرات کو کم کر سکتے ہیں اور اپنی زندگیوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔
جزاک اللہ
Comments
Post a Comment