دین اور دنیا کی تفریق اور ہمارا تناظر

 تناظر کی صحت اس بات سے مشروط ہے کہ عقیدے کے دائرے کو زندگی کے دائرے پر پوری طرح پھیلا دیا جائے۔ اس کے لیے دین اور دنیا کی تفریق ختم کرنی ہوگی۔ اللہ نے ہم سے زندگی کا ہر لمحہ حالتِ عبادت میں طلاب کیا ہے اور اسی کو ہماری تخلیق کا مقصد قرار دیا ہے۔

یہ وہ حقیقت ہے جو ہم جانے یہ انجانے میں نظر انداز کرتے ہیں۔ عقیدہ بن جاتا ہے مگر گویا نمازوں یہ پھر چند اور اعمالوں میں جھلکتا ہے  زندگی کا ہر لمحہ عقیدے کے نظریے میں گزر جائے ایسا ہمارے لیے ممکن نہیں رہا ہے۔ وجہ شاہد یہ ہے کہ علم پورا نہیں میسر ور دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نفس کی غلامی میں زندہ ہیں۔

کامل انسان بن جانا ممکن نہیں،  مگر ہمیں اللہ سے احساس اور فکر ضرور مانگنی چاہیئے۔ مکالمہ ہو یہ مطالعہ، ہمیں دین اور دنیا کو الگ نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ دنیا ہی دین بن جانی چاہیے۔ گویا میرا حال ایسا ہو کہ  چاہے کام کروں یہ کوئی فرض عبادت کروں، بات کروں یہ سوچوں، ہر وقت بس اسی فکر میں رہنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی ہدایت کیا ہے یا پھر ہمارے نبی ﷺ نے اس موقع پر کیا راستہ اختیار کیا ہوگا۔

آمین!

Comments