Posts

Showing posts with the label Book Reviews

قصہ رینڈی پاوش کا / The Story of Randy Pausch

Image
Image by  Alexa  from  Pixabay  کوئی مجھ سے ایک فہرست بنانے کا کہے جس میں وہ سارے کام موجود ہوں جو مجھے کرنے ہیں اور ساتھ میں یہ شرط بھی لگا دے کہ میری موت چند گھنٹوں میں واقع ہوجائے گی تو بلاشبہ میری فہرست میں استغفار اور فیملی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ مگر رینڈی پاوش نامی ایک کمپیوٹر ساینٹسٹ کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ انھوں نے باوجود  اپنی موت کی پیشگی اطلاع کے ایک خوبصورت کتاب کو لکھنا زیادہ ضروری سمجھا۔ وہ کتاب تھی The Last Lecture۔ اس کتاب کے دو مصنفین ہیں۔ پہلے رینڈی پاوش اور دوسرے جیفری زیسلو۔ جیفری  پیشے سے ایک لکھاری تھے اور جس وقت یہ کتاب لکھی جارہی تھی اس وقت وہ Wall Street Journal نامی مشہور ادارے سے تعلق رکھتے تھے۔رینڈی ایک پروفیسر تھے جن کا تعلق Carnegie Mellon University سے تھا۔ رینڈی کی ایک اہلیہ تھیں اور تین چھوٹے بچےتھے۔ ان کی  یہ واحد کتاب تھی مگر صرف اس کتاب کا اثر ابھی تک دنیا میں موجود ہے۔ ایک مشہور ادارے ABC NEWS کے حساب سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس کتاب میں موجود امید پرستی کے پیغام سے متاثر ہوئے ہیں۔

Life Lessons from "Tuesdays with Morrie" About Death

Image
Photo by  davide ragusa  on  Unsplash Mitch Albom کی کتاب "Tuesdays with Morrie" میں مصنف نے اپنے سابق پروفیسر  Morrie Schwartz  کے ساتھ اپنی چند مکالموں  کا ذکر کیا ہے، یہ مکالے  جب ہوئے جب پروفیسر کو اپنی زندگی کے اختتام کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ کتاب میں بہت سی باتیں اور پیغامات ہیں، مگر سب سے زیادہ جس نے مجھے اثر کیا، وہ Morrie کا موت کے موضوع کی طرف توجہ تھی۔ شاہد اس لئے کہ وہ خود موت کا سامنا کرنے والے تھے۔  

اسلام اور جدید معیشت و تجارت

Image
کتاب کا نام: اسلام اور جدید معیشت و تجارت مصنف: مفتی تقی عثمانی صاحب ناشر: متھبہ معارف القران، کراچی کل صفحات: 276 تبصرہ: یہ کتاب اُن کتابوں میں سے ہے جو قارئین کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیتی بلکہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔ مفتی صاحب نے  اس کتاب میں جہاں  اسلامی معاشیات کی گہرائی کو بیان کیا ہے وہاں یہ فرض بھی ادا کیا ہے کہ ہم جیسے لاعلم لوگ ان تمام اصولوں کو اپنی زندگی سے جوڑلیں تاکہ اصلاح ہوجائے۔ یہ مفتی صاحب کا ہی فن ہے کہ شریعت کو دنیا میں ایسا بتایا جائے کہ ہر انسان اسے سمجھ سکے اور اپنا سکے۔