قصہ رینڈی پاوش کا / The Story of Randy Pausch
Image by Alexa from Pixabay کوئی مجھ سے ایک فہرست بنانے کا کہے جس میں وہ سارے کام موجود ہوں جو مجھے کرنے ہیں اور ساتھ میں یہ شرط بھی لگا دے کہ میری موت چند گھنٹوں میں واقع ہوجائے گی تو بلاشبہ میری فہرست میں استغفار اور فیملی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ مگر رینڈی پاوش نامی ایک کمپیوٹر ساینٹسٹ کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ انھوں نے باوجود اپنی موت کی پیشگی اطلاع کے ایک خوبصورت کتاب کو لکھنا زیادہ ضروری سمجھا۔ وہ کتاب تھی The Last Lecture۔ اس کتاب کے دو مصنفین ہیں۔ پہلے رینڈی پاوش اور دوسرے جیفری زیسلو۔ جیفری پیشے سے ایک لکھاری تھے اور جس وقت یہ کتاب لکھی جارہی تھی اس وقت وہ Wall Street Journal نامی مشہور ادارے سے تعلق رکھتے تھے۔رینڈی ایک پروفیسر تھے جن کا تعلق Carnegie Mellon University سے تھا۔ رینڈی کی ایک اہلیہ تھیں اور تین چھوٹے بچےتھے۔ ان کی یہ واحد کتاب تھی مگر صرف اس کتاب کا اثر ابھی تک دنیا میں موجود ہے۔ ایک مشہور ادارے ABC NEWS کے حساب سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس کتاب میں موجود امید پرستی کے پیغام سے متاثر ہوئے ہیں۔