ہمارے وجود کی غلط وجہوات / Wrong Origin of Our Existence

 کچھ دن پہلے عقیدہ اور تصور پر بنیادی بات ہوئی تھی۔ جب یہ فہم مجھے پہلی دفع ملا تو میں کافی لمبے عرصہ تک ایک غلط فہمی میں رہا۔ آپ میں سے کوئی میری وجہ سے غلط راہ پر وقت ضائع نا کرے اس لیے اس غلط فہمی کی وضاحت ضروری سمجھ رہا ہوں۔

ایک بڑا مسئلہ تو یہ ہے ہی کہ ہم نے عقیدہ اور تصور میں فرق نہیں رکھا لیکن دوسرا سانحہ یہ ہے کہ ہمارا تصور بھی اب تصور کی حد سے بہت نیچے گر گیا ہے۔ ہم نے نا اپنے وجود کی اصل کو پایا ہے نا اپنے حقیقی خدا کو۔ ہم نے روح کے انکاریوں کی تقلید میں اپنے جسموں ہی کو اپنے وجود کی اصل سمجھ لیا ہے۔ 

تصور ٹھیک ہوتا اور عقیدہ بگڑا ہوا ہوتا تو محنت عقیدہ پر ہوجاتی اور ہمارے وجود کے معاملات کچھ جلدی طے ہوجاتے۔ مگر مسئلہ اب یہ پیش ہے کہ ہمارا تصور بھی اب مناسب نہیں رہا۔ بلکہ ہم نےاپنے ظاہری جسم کو اپنا وجود مان لیا ہے۔ باطنی وجود کہیں کھوگیا ہے جس کے نتیجے میں عقیدہ، ایمان، شعور، تناظر اور بہت سے نفسیاتی باشندے سخت بیمار ہوگئے ہیں۔ اللہ بغیر کسی بڑے نقصان کہ ہمیں ہمارا باطنی وجود دکھا دئے۔ آمین۔

Comments