Posts

From Problems to Solutions: A Simple Shift in Focus

Just talking about problems won’t solve them. To find solutions, we need to do two things: first, focus on the core principles (اُصول) of the issue; second, debate the context (تناظر) that caused the problem in the first place. Take a moment to reflect on this approach and start relating it to the challenges you face in life. By focusing on principles and examining the context of each issue, you'll gain clearer insights and can begin applying this method to find more effective solutions.

ہمارے وجود کی غلط وجہوات / Wrong Origin of Our Existence

 کچھ دن پہلے عقیدہ اور تصور پر بنیادی بات ہوئی تھی۔ جب یہ فہم مجھے پہلی دفع ملا تو میں کافی لمبے عرصہ تک ایک غلط فہمی میں رہا۔ آپ میں سے کوئی میری وجہ سے غلط راہ پر وقت ضائع نا کرے اس لیے اس غلط فہمی کی وضاحت ضروری سمجھ رہا ہوں۔ ایک بڑا مسئلہ تو یہ ہے ہی کہ ہم نے عقیدہ اور تصور میں فرق نہیں رکھا لیکن دوسرا سانحہ یہ ہے کہ ہمارا تصور بھی اب تصور کی حد سے بہت نیچے گر گیا ہے۔  ہم نے نا اپنے وجود کی اصل کو پایا ہے نا اپنے حقیقی خدا کو۔ ہم نے روح کے انکاریوں کی تقلید میں اپنے جسموں ہی کو اپنے وجود کی اصل سمجھ لیا ہے۔   تصور ٹھیک ہوتا اور عقیدہ بگڑا ہوا ہوتا تو محنت عقیدہ پر ہوجاتی اور ہمارے وجود کے معاملات کچھ جلدی طے ہوجاتے۔ مگر مسئلہ اب یہ پیش ہے کہ ہمارا تصور بھی اب مناسب نہیں رہا۔ بلکہ ہم نےاپنے ظاہری جسم کو اپنا وجود مان لیا ہے۔ باطنی وجود کہیں کھوگیا ہے جس کے نتیجے میں عقیدہ، ایمان، شعور، تناظر اور بہت سے نفسیاتی باشندے سخت بیمار ہوگئے ہیں۔ اللہ بغیر کسی بڑے نقصان کہ ہمیں ہمارا باطنی وجود دکھا دئے۔ آمین۔

بڑے لوگ / Great People

 اعظم گڑھ کے کسی گاؤں سے ایک صاحب نے مولانا اشرف علی تھانوی رح کو خط لکھا۔ اس کامتن کچھ اس طرح تھا : ‘‘میں آپ کے خلیفہ مولانا عبدالغنی پھول پوریؒ کامرید ہوں۔ میں نے گزشتہ برس مدرستہ الاصلاح میں اپنے بیٹے کا داخلہ کرایاہے۔ الحمدللہ! داخلے کے بعد سے میرے بیٹے میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ نمازیں پڑھتا ہے، گاؤں کے خراب بچّوں سے الگ رہتا ہے اور جی لگاکر تعلیم بھی حاصل کر رہا ہے۔  میرے بعض اعزّہ کے بچے بھی اسی مدرسے میں پڑھتے ہیں۔ وہاں پڑھانے میں مجھے بڑی سہولت ہے۔  لیکن میرے شیخ مولانا عبدالغنی صاحب کو یہ بات پسند نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بچے کو اس مدرسے سے اٹھالو، وہاں کی فکر صحیح نہیں ہے۔ بچّہ آزاد خیال ہوجائے گا اور قرآن کو حدیث و تفسیر سے سمجھنے کی بجائے اپنی عقل سے سمجھنے کی کوشش کرے گا۔  میرے شیخ نے یہاں تک فرما دیا کہ بچے کو وہاں سے ہٹالو ورنہ میں بد دعا کردوں گا۔ جب کہ میرا بیٹا اسی مدرسے میں پڑھنا چاہتا ہے اور خوش ہے۔  اب آپ فرمائیں میں ایسی صورت میں کیا کروں؟’’ مولانا نے خط کامختصر جواب دیتے ہوے لکھا: اگر آپ اس بات سے مطمئن ہیں کہ آپ کے بیٹے کی وہاں صحیح تعلیم ...

عقیدہ اور تصور / Belief and Imagination

اکثر سوچتا ہوں کہ آج ہمیں مذہب ایک طوق کیوں معلوم ہوتا ہے؟ کیوں آج کے انسانوں کو کوئی بھی انسانی تعلق بوجھ محسوس ہوتا ہے؟ مسلم ہو یا غیر مسلم، سب اس پریشانی سے دوچار ہیں۔ شاہد اس کی وجہ اپنے نفس کی غلامی ہے۔   جب انسان اپنے نفس کو خدا بنالیتا ہے تو نتیجے میں اُسے ایک لذت حاصل ہوتی ہے، ایسی لذت جو کسی بھی قسم کی اطاعت اور پابندیوں  میں رہنا نہیں چاہتی۔ رسول ﷺ نے بھی اپنی ایک حدیث میں اس کا اشارہ دیا ہے کہ  زمین پر اللہ کی بجائے جتنے  جھوٹے خداوٴں کی عبادت کی جاتی ہے ان میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ  وہ خواہشاتِ نفس ہیں جن کی انسان پیرو ی کرتا ہے۔  غالباََ تزکیہ نفس اسی لیے ہمارے لیے بہت ضروری ہے اور میرا ماننا ہے کہ نفس کی صفائی میں سب سے پہلا قدم علمِ نافع کے حصول کا ہونا چاہیے۔ تاکہ کم از کم  ہمیں ہمارے وجود کے اندر موجود بنیادی مسائل کا علم تو ہو۔  انسان کے  اندر  موجود کسی بھی تعلق کی بنیادیں خواہ وہ تعلق اللہ سے  ہو، اگر عقیدے کی سطح سے گر کر تصور کی سطح پر کھڑی ہوجائیں تو اُس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک ...

جھوٹے اور ہوشیار خدا / False and cunning gods

 جب مکہ فتح ہوا تو آپﷺ نے کعبہ میں موجود تمام جھوٹے خداوں کو توڑ دیا۔ وہ جھوٹے خدا بت تھے یعنی پتھر کی مورتیاں تھیں جن سے کسی قسم کے کوئی فائدے کی امید رکھنا سراسر تناظر کی خرابی کی وجہ تھی۔ ابھی کا معاملہ بالکل الگ ہے۔  اس وقت عالمِ کفر جن خداوٴں کی پرستش کررہا ہے وہ بہت فائدہ پہنچا نے والے ہیں۔ آج کے جھوٹے خدا انسانوں  کی خواہشیں بھی پوری کر رہے ہیں، کھانا بھی کھلا رہے ہیں، شفاء بھی دے رہے ہیں، زندگی بڑھا بھی رہے ہیں، گھٹا بھی رہے ہیں۔ جہاں تک ہماری نظر جاتی ہے وہاں تک کے تمام مسائل کا حل ان کے پاس ہے۔ اور عالمِ کفر کا کیا رونا، اب تو ان جھوٹے خدواں کا اثر ہم مسلمانوں پر بھی بن گیا ہے۔ جیسے پہلے کے ناکارہ خداوں کا انکار تقوی سے ہوا تھا، آج کے ہوشیار خداوں کا خاتمہ بھی تقوی سے ہوگا۔ سب سے پہلے ہمیں اپنا تناظر ایمانی کیفیت والا کرنا ہوگا تاکہ ہماری عینک پر سے کفر کی دھول ہٹے اور پھر  ہمیں وہ دکھائی دے جو اللہ دکھانا چاہا رہا ہے۔ اس ایمانی تناظر کی بدولت ہی ہم اپنی عقل اور فہم کا وہ استعمال لے پائنگے جو مطلوبِ اللہ ہے۔

میرا مسجود اللہ مگر میرا معبود کوئی اور

ہمیں جتنی جلدی ہوسکے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہمارا مسجود اور معبود دونوں ایک ہے اور وہ صرف اللہ ہے۔ آج جب میں اپنا تزکیہ کرتا ہوں تو مجھے میرا مسجود تو اللہ نظر آجاتا ہے اور میں اس پر اطمینان سے بیٹھ جاتا ہوں۔ مگر میرا معبود اللہ ہے، یہ منظر آج میری نظر سے غائب ہے۔  اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کے وہ آدمؑ کو سجدہ کریں۔ اُنھوں نے اللہ کے حکم کی پیروی کی کیونکہ فرشتوں میں اللہ کی نافرمانی کرنے کی صلاحیت موجود ہی نہیں۔ اللہ نے جب یہی حکم ابلیس کو دیا تو اُس نے انکار کردیا۔ ابلیس جنوں میں سے تھا اور جنوں کو اللہ نے اختیارات دیے ہیں کہ وہ اپنی چلا سکیں۔ ابلیس کے انکار کا ایک رخ تو یہ تھا کے اُس نے اللہ کی نافرمانی کی، دوسرا رخ یہ بھی تھا کے اُس نے اپنے نفس کی بندگی کی۔ مطلب ابلیس کا مسجود اللہ تھا مگر معبود کوئی اور تھا۔ ابلیس اور آج کے مجھ میں کوئی فرق نہیں۔ اللہ کے لیے میں بھی مخلوق اور ابلیس بھی، اور اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو امتحان میں ڈالتے ہیں۔ اللہ نے ابلیس کو امتحان میں ڈالا، وہ شدید ناکام ہوگیا۔ اللہ نے مجھے بھی امتحان میں ڈالا ہوا ہے اور سچ کہوں تو میں بھی ناکامی ...

دین اور دنیا کی تفریق اور ہمارا تناظر

 تناظر کی صحت اس بات سے مشروط ہے کہ عقیدے کے دائرے کو زندگی کے دائرے پر پوری طرح پھیلا دیا جائے۔ اس کے لیے دین اور دنیا کی تفریق ختم کرنی ہوگی۔ اللہ نے ہم سے زندگی کا ہر لمحہ حالتِ عبادت میں طلاب کیا ہے اور اسی کو ہماری تخلیق کا مقصد قرار دیا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہم جانے یہ انجانے میں نظر انداز کرتے ہیں۔ عقیدہ بن جاتا ہے مگر گویا نمازوں یہ پھر چند اور اعمالوں میں جھلکتا ہے  زندگی کا ہر لمحہ عقیدے کے نظریے میں گزر جائے ایسا ہمارے لیے ممکن نہیں رہا ہے۔ وجہ شاہد یہ ہے کہ علم پورا نہیں میسر ور دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نفس کی غلامی میں زندہ ہیں۔ کامل انسان بن جانا ممکن نہیں،  مگر ہمیں اللہ سے احساس اور فکر ضرور مانگنی چاہیئے۔ مکالمہ ہو یہ مطالعہ، ہمیں دین اور دنیا کو الگ نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ دنیا ہی دین بن جانی چاہیے۔ گویا میرا حال ایسا ہو کہ   چاہے کام کروں یہ کوئی فرض عبادت کروں، بات کروں یہ سوچوں، ہر وقت بس اسی فکر میں رہنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی ہدایت کیا ہے یا پھر ہمارے نبی ﷺ نے اس موقع پر کیا راستہ اختیار کیا ہوگا۔ آمین!

World and Religion Separation and Authenticity of Faith

The authenticity of faith hinges on expanding the realm of belief to encompass every aspect of life. For this, the separation between religion and the world must be eliminated. The Allah SWT has demanded from us that every moment of our lives be spent in a state of worship, and this is the purpose of our creation. This is a truth we ignore for a long time, knowingly or unknowingly. Faith had taken root, but it seemed to manifest only in prayers or a few other rituals. We couldn't live every moment in the ideology of faith. The reason was perhaps a lack of complete knowledge, and another reason was being enslaved by our own desires.  We might not become a perfect person, but we should ask the grace of Allah SWT to develop awareness and thoughtfulness. Whether we are in conversation or study, we shall not separate religion from worldly affairs. Rather, the world itself has to become a religion for us. Whether we are working or performing any obligatory worship, talking or thinking, w...

ناپسندیدہ کی آزادی

 آج کے جدید مغربی تہذیب سے مرعوب شدہ معاشرے میں ایک اہم بیماری ہمارے اندر پائی جاتی ہے کہ ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کے پسندیدہ انسان بننا چاہتے ہیں۔ اب اس بیماری میں بھی یہ کھوکلا پن ہے کہ اپنوں سے زیادہ غیروں کے پسندیدہ بننا ہماری ترجیح ہوتی ہے لیکن اس پر کسی اور دن بات کرینگے۔ ہر کسی کو خوش رکھنا، سب کا پسندیدہ ہونا یہ ایک عجب بات ہے۔ مطلب کے میری حیات میں میرا ایسا کچھ ہے ہی نہیں کہ کسی کو اس پر اختلاف ہو۔ یا تو میں کوئی ایسا عالم ہوں کہ سب مجھ سے متفق ہیں یا پھر میں اتنا ادنا ہوں کہ میرا وجود کا کوئی اثر ہی نہیں۔ سب متفق ہوجائیں، یہ ممکن نہیں۔ ہاں میری حیات کا ادنا ہونا بہت حد تک ممکن ہے اور مغرب کو مطلوب بھی ہے کہ میں کہیں سے کچھ بڑا اور اثر کام نہ کرجاوں۔ میرا ماننا ہے کہ آج کے دور میں زندگی میں ہر انسان کو لوگوں کی رائے کی قید سے آزاد ہونے کا فن سیکھنا چاہیے۔ اگر ہم ہر وقت دوسروں کی پسند یا ناپسند کے بارے میں فکر مند رہیں تو خود کو ایک قید خانے میں محسوس کریں گے۔ کسی بڑے کام کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت رکھنے والے افراد کبھی کبھی دشمن بنا لیتے ہیں، جو کہ اچھی بات ہے، کیونکہ اس کا م...

اپنے بچوں کو ایمان والے سے مکالمے کا موقع دیں

اگر کسی صاحبِ ایمان کے ساتھ بچے کا مکالمہ ہوتا رہے تو اُس کا ذہن اُس کے سوالات پر بہت واضح ہوجاتا ہے۔ عقیدت اور تناظر تشکیل پاتے ہیں اور ایمان قوی ہوجاتا ہے۔ یہ آج کے جدید معاشرے میں بہت مجنوں قسم کی بات ہے۔ ہم میں سے بہت تو ایسے ہیں جو ایسی باتوں کو فوراََ سے نظروں سے ہٹا دیتے ہیں اور چند لوگ جو رک کر پڑھنا ضروری سمجھتے ہیں اُن کو یہ ہضم نہیں ہوتی۔ اس بیان کی کوئی تخیلی شکل نہیں ہوسکتی، کم از کم میں ایسا اپنے دماغ میں سوچ نہیں سکتا۔خیال میں ایسا آتا ہے کہ یہ بات بالکل بے معنی ہے۔ مگر میں یہ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب بھی بچہ کسی ایمان والے انسان کےساتھ وقت گزارے گا اس کی زندگی میں ہر جہت سے نور کا رنگ چڑھے گا۔  سوچنا یہ ہے کہ یہ ایمان والا انسان ملے گا کہاں سے؟  کسی تعلیمی ادارے سے؟ کسی مدرسہ سے؟ یہ آج کے جدید دور میں کہیں کسی آن لائن پلیٹ فارم سے؟  بہتر تو یہ ہے کے یہ انسان اس دنیا میں اُس کے گھر میں ہی ملے، اپنے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی  کی شکل میں۔ آج سے تقریباََ سو دوسو سال پہلے (انڈسٹریل ایرا سے قبل) یہ ایمان والا بچے کو گھر میں ہی مل جاتا تھا...

قصہ رینڈی پاوش کا / The Story of Randy Pausch

Image
Image by  Alexa  from  Pixabay  کوئی مجھ سے ایک فہرست بنانے کا کہے جس میں وہ سارے کام موجود ہوں جو مجھے کرنے ہیں اور ساتھ میں یہ شرط بھی لگا دے کہ میری موت چند گھنٹوں میں واقع ہوجائے گی تو بلاشبہ میری فہرست میں استغفار اور فیملی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ مگر رینڈی پاوش نامی ایک کمپیوٹر ساینٹسٹ کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ انھوں نے باوجود  اپنی موت کی پیشگی اطلاع کے ایک خوبصورت کتاب کو لکھنا زیادہ ضروری سمجھا۔ وہ کتاب تھی The Last Lecture۔ اس کتاب کے دو مصنفین ہیں۔ پہلے رینڈی پاوش اور دوسرے جیفری زیسلو۔ جیفری  پیشے سے ایک لکھاری تھے اور جس وقت یہ کتاب لکھی جارہی تھی اس وقت وہ Wall Street Journal نامی مشہور ادارے سے تعلق رکھتے تھے۔رینڈی ایک پروفیسر تھے جن کا تعلق Carnegie Mellon University سے تھا۔ رینڈی کی ایک اہلیہ تھیں اور تین چھوٹے بچےتھے۔ ان کی  یہ واحد کتاب تھی مگر صرف اس کتاب کا اثر ابھی تک دنیا میں موجود ہے۔ ایک مشہور ادارے ABC NEWS کے حساب سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ اس کتاب میں موجود امید پرستی کے پیغام سے متاثر ہوئے ہیں۔

خود نظم و ضبط کی آسان نفسیات

Image
 آپ نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو زندگی میں بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں؟ ایسے لوگ بھی دیکھے ہونگے جو سارے وسائل ہونے کے باوجود بھی صرف تھوڑا بہت حاصل کر پاتے ہیں۔ ایسا کیوں؟ کیونکہ وہ خود نظم و ضبط کے پابند نہیں ہوتے۔ آپ بھی اگر ان لوگوں میں ہیں جو نظم و ضبط کے معاملے میں اپنے آپ کو مشکل میں پات ہیں تو یہ کتاب آپ کے لئے بہت مفید ہوسکتی ہے۔ اس کتاب میں دونوں پہلو موجود ہیں۔ پہلا تو نظم و ضبط کے پیچھے نفسیات جس کو سمجھ کر آپ کو یہ اندازہ ہو جائگا کے مسئلہ کہاں ہے اور حل کی ضرورت کہاں ہے۔ دوسرا، کچھ آسان طریقے جس سے آپ اپنے نظم و ضبط کے سفر میں انے والا مسائل پر کام کر پائنگے۔ کتاب کہاں سے حاصل کریں؟ یہ کتاب مفت یہاں سے حاصل کریں ۔

Easy Psychology of Self-Discipline

Image
We see people achieve a lot of things in their life. In parallel, we also see people do not get half of the things in their lives. Ever, explored - why does it happen? It is because of self-discipline. If you are one of them, who lacks self-discipline and does not why. This book is for you to read. This book is an attempt to present the psychology behind Self-Discipline so you can use it. Present in a sense that it becomes so easier to apply and kill all the barriers around this.  I am not an expert in Self-Discipline but have learned and applied it in my own life. When I felt that whatever I learned and applied was giving positive results to me, decided to give the wisdom, knowledge, and experience in the shape of a book. But it is from: Kindle / Kobo

What Does It Take To Be a Successful Project Manager

Image
Why are there a lot of project managers still trying to become leaders? Why they are not getting paid higher? What skills are they lacking? This book is about the shift – a transition from an ordinary project manager to a successful project manager. It covers the 5 essential skills required to become a successful project manager in any industry like health, oil & gas, or information technology. These 5 skills are based on my own 13+ years of project management experience. They will also reflect the exposure of 100+ years from my mentors, colleagues, and clients. This will keep helping you in gaining a practical perspective for more convenient learning experiences. Buy it from: Kindle / Paperback / Kobo / Dastaan Ebook

Handle Difficult People at Work & Discover Toxic Free Workspace

Image
In our professional sphere, we often encounter individuals who challenge our patience and test our resolve. These difficult people can be coworkers, bosses, or customers. Managing them requires tact, empathy, and a strategic approach. Understanding what it means to handle difficult people at work, recognizing its significance, and implementing effective strategies are essential for maintaining harmony and achieving goals. What does "handle difficult people at work" mean? Managing difficult people involves skillfully handling interactions with individuals who exhibit problematic behaviours such as aggression, negativity, or manipulation. It's about adeptly addressing conflicts, diffusing tensions, and fostering improved communication channels.